Friday, December 11, 2020

ملالہ سے ملالہ تک : عطاء اللہ کاکڑ

 





15 نومبر 1999ء کی صبح ریڈیو شریعت کابل نے اعلان کیا کہ کل صبح کابل فٹبال اسٹیدیم میں سرعام سزائے موت دی جائے گی۔اس خبر کو سنتے ہی اگلی صبح سولہ نومبر کابل فٹبال اسٹیڈیم میں عام لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی، طالبان راہ گیروں کو اسٹیدیم کے اندر جانے اورر موت کا تماشہ دیکھنے کے لیے کہہ رہے تھے۔ سرعام سزائے موت کا وقت دو بجے رکھا گیا تھا۔ شروع کے ۰۲ سے ۰۳ منٹ طالبان لیڈران اسلامی بیانات کرہے تھے۔ آج وہ خوش تھے کہ خدا کی زمین پر خدا کا قانون نافظ کیا جارہا ہے۔ طالبان کونسل،طالبان شریعہ لاء اور امیر امارت اسلامی
ملا محمد عمر نے خود اس سزائے موت کی منظوری دی تھی۔
زرمینہ دو اور خواتین کے بیچ ایک سرخ رنگ کی پک اپ میں بیٹھی ہوئی تھی۔وہ نیلے رنگ کے برقوں میں ملبوس تھیں۔گراونڈ میں موجود عوام میں خوف و ہراس تھا۔ کابل اسٹیدیم جو کبھی کھیل کا میدان تھا آج موت کا میدان بننے جارہا تھا یہ منظر اوپر خدا اور نیچے موجود عوام اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔زرمینہ گٹنوں کے بل زمین پر گرتی ہے اور ایک مجاہد اللہ کی رضا کے لیے اس کے سر پر کلاشینکوف رکھتا ہے۔خوف کی وجہ سے لوگوں کی آوازیں تھم گئیں۔ اچانک گولی کی گونج چلتی ہے گولی زرمینہ کے سر کو پارکرتی ہے اور یوں تاریخ می پہلی دفعہ خدا کے زمین پر خدا کا قانوں لاگو ہوکر ایک عورت کا سرعام قتل کیا جاتا ہے۔افغانستان میں اپنی نوعیت کا یہ واقع دنیا بھر میں پھیل جاتا ہے۔ اس واقعے کو
RAWAافغان خواتین کے حقوق کے ادارہRevolutionary Association of the Afghan Women نے اپنی کیمرے میں
ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا۔
افغانستان یا موت کا میدان؟ کیا بچے کیا بوڑھے،شادی یا فاتحہ ریسٹورانٹ ہو یا مسجد اسکول ہو یا مدرسہ، ہسپتال ہو یا کھیل کے میدان شہر ہو یا صحرا شاہد ہی ایسی کوئی جگہ ہو جہاں موت کا کھیل نہ کھیلا گیا ہو۔ جہاں ایک طرف شربت گلہ سترنگی آنکھوں والی ایک عام لڑکی کو دنیا بھر میں شہرت ملتا ہے وہی میوند کی ملالہ کو تاریخ میں وہ مقام ملتا ہے جس نے انگریز سامراجیت کی خلاف وطن کے لیے اپنی جان کی قربانی دی۔ دوسری افغان اینگلو وار 25جولائی 1880کو برطانوی فوج نے کندھار پر حملہ کیا۔ کندھار میں افغانوں کے سیپہ سالار ایوب خان نے انگریزوں کے خلاف مسلح جنگ شروع کی۔ایک چرواہے کی نوجوان بیٹی اپنے ہونے والے شوہر کو جنگ میں لڑتے ہوئے دیکھتی ہے۔ انگریزوں کی فتح کے امکانات بڑھ رہے تھے کہ اچانک پشتو کے لوک ٹپہ بلند ہوتا ہے:
کہ پہ میوند کی شہید نہ شوے
خدا ء گو لالیہ بے ننگئی لہ دی ساتمہ۔ اگر آج میوند میں شہید نہ ہوئے۔
بخدا تمہیں بزدلی کے لیے پال رہی ہوں۔
ٹپہ بلند ہوتے ہی افغان جنگجوں کی ہمت دگنی ہوجاتی ہے۔ اور انگریزوں کا غرور خاک میں مل جاتا ہے۔ اس جنگ میں ملالہ میوند شہید ہوگئی۔ جنہیں آج بھی پورے افغانستان میں عقیدت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
جہاں ایک طرف ملالہ میوندی کے جرائت مندانہ واقعات کو تاریخ میں اعلی مقام حاصل ہے وہی نان الیون کے بعد کئی خواتین کو موت کے نیند سلایا گیا۔ ان میں اکثریت خواتین صحافی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی خواتین کی ہیں۔جون 2007 کو کو شمشاد ٹی وی کے صحافی سانگہ امج کو دہشت گردی کے ایک حملے میں نشانہ بنایا گیاجبکہ اسی سال پہلی افغان خاتون جرنلسٹ زکیہ زکی جنہوں نے طالبان کے خلاف آواز اٹھائی کو گھر میں آٹھ مہنے کے بچے کے ساتھ لیٹے ہوئے سر پر سات گولیاں مارکر قتل کیا گیا۔ یہ سلسلہ یہاں نہیں روکا۔گیارہ نومبر 2019 کو شمشاد ٹی وی کے ایک اور خاتون نیوز کاسٹر صحافی مینہ مینگل کو ایک دھماکے میں شہید کیا گیا۔
دہشت گردی کا نشانہ صرف افغان خواتین ہی نہیں بلکہ یہ لہر پاکستان میں بھی داخل ہوا تھا۔ ۹ اکتوبر 2012 سوات کے رہنے والی ملالہ یوسف زئی بھی اس تجربے سے گزری۔ ملالہ کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ وہ اپنے علاقے سوات میں اس وقت لڑکیوں کی تعلیم کی آگاہی پھیلا رہی تھی۔سوات میں حالت اس وقت کشیدہ ہونا شروع ہواجب مقامی طالبان کمانڈر ملاٖفضل اللہ نے 2008 میں وارننگ دیا تھاکہ تمام فی میل تعلیمی ادارے ایک مہنے کے اندر اندر بند کیے جائے ورنہ برے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور ہوا بھی یوں کی گی 11سالہ ملالہ کو ظالمانہ طو ر پر تعلیم اور امن کے کیے آواز اٹھانے پر نشانہ بنایا گیا۔
1977 افغانستان اور پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والا ادارہ RAWA(Revolutionary Association of the Women of Afghanistan کی بنیاد رکھنے والی افغان طالبہ مینہ کمال جنہوں نے پشاور اور کوئٹہ میں خواتین کے حقاق اور جمہوریت کے لیے آواز اٹھائی ۔ انہوں نے نہ صرف افغانستان میں کیونسٹ حکومت اور روسی مداخلت کت خلاف مزمت کی بلکہ روسے افواج کے بعد خانہ جنگی اور طالبان حکومت میں بھی انسانی حقوق کے لیے کام کرتی رہی۔ راوا کی بنابتدائی دفتر کابل میں تھا لیکن 1980میں حالات کی کشیدگی اور افغانستان میں خانہ جنگی کی وجہ سے پاکستان منتقل کیا گیا۔ اکیس سالہ مینہ نے افغان بچوں کے لیے اسکول، ہسپتال اور دستکاری کے ادارے شروع کیے۔ لیکن بد قسمتی سے ان کے ان خدمات کا بدلہ بھی موت کی شکل میں ملا۔ اور 4 فروری 1987 کو بلوچستان کے درالحکومت کوئٹہ میں قتل کی گئی۔
جہاں ایک طرف حالیہ افغان امن معاہدے کی بحث چل رہی وہی افغانستان میں ایک اور خاتون صحافی کا قتل افسوس نا ک ہے۔ مشرقی افغانستان کے شہر جلال آباد میں ملالہ مومند کو اپنی گاڑی میں دفتر جاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔ یاد رہے کہ افغان حکومت کی اکیس رکنی وفد میں تین خواتین بھی شامل ہیں جن کا موقف ہے کہ طالبان کے ساتھ امن معاہدے میں خواتین کے حقوق اور تعلیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ دوسری جانب طالبان بھی اس بات پر امادہ ہے کہ اگرچہ انہیں افغانستان شرعی نظام نظام کا نفاذ چاہتے ہیں لیکن خواتین کے بارے میں ان کے نظریات ماضی کے مقابلے میں نرم ہے۔ خاتون صحافی ملالہ مومند کی حالیہ قتل اس حوالے سے تشویش پیدا
کرہا ہے کہ افغان امن معاہدے کی کامیابی کی صورت میں خواتین کی حقوق کا کتنا خیال رکھا جائے گا۔

No comments:

Post a Comment