ٹڈی دل حملہ
--------------------------------------------
تحریر : عطاء اللہ کاکڑ
آج سےکئی برس پہلے ہمارا مشغلہ ٹڈی دل پکڑنا ہوا کرتا تھا۔مینا Myna پرندے کا بچہ اس مقصد سے پالتے تھے کہ وہ بڑا ہوکر بولنے لگے گا۔ Myna میں یہ خاصیت موجود ہے کہ یہ بہت زبردست میمیکری کرنے والا پرندہ ہے۔ کبھی کبھار تو یہ بالکل انسان کی طرح الفاظ ادا کرسکتا ہے۔ اس خاصیت کی بنا پر اسے ووکل برڈ بھی کہا جاتا ہے۔ بچپن کا مشغلہ کچھ ایسا تھا کہ دوپہر کے وقت گھر سے نکل کر کھیتوں اور صحرا کا رخ کرتے تھے تاکہ ٹڈی دل جس کو مقامی زبان میں ملخ کہتے ہیں کو پکڑ کر myna کو کھلا سکے۔جس دن کم ملخ پکڑتے تو کافی مایوسی ہوجاتی تھی۔ بہرحال بچپن کی یادیں بھی عجیب ہوتی ہیں۔انگریزی میں ایک کہاوت ہے (The excess of evry thing is bad) ہر چیز کا ضرورت سے بڑھ جانا نقصادہ ہے۔لیکن اگر یہ بات اس وقت کوئی سمجھا تا تو شاید ہم اس کو پاگل ہی سمجھ لیتے۔ کیونکہ ہماری خوشی تو زیادہ ٹڈی پکڑنے میں ہی ہوتی تھی۔آج ایک طرف جہاں کرونا وائرس نے زندگی کے ہر شعبے کو بری طرح متاثر کیا ہے وہی دوسری طرٖف پاکستان سمیت افغانستان ،ایران اور ہندوستان میں ٹڈی سے زراعت کو بڑی سطح پر خطرہ لاحق ہے۔
ٹڈی دل عام طور پر Grasshoper اورCricket سے مماثلت رکھنے والے حشرات ہوتے ہیں جبکہ یہ تینوں ایک ہی فیملی گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ٹڈی زیادہ تر صحرائی علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔اس کے دوطبقاتی مراحل ہوتے ہیں جن میں پہلا
Solitary phase ہوتا ہے جن میں ان کا رنگ سبز نماں ہوتا ہے۔ اس مرحلے میں ٹڈی زیادہ خطرناک نہیں ہوتا۔جبکہ دوسرے مرحلے کو
Gregarious phase کہا جاتا ہے۔ اس مرحلے میں ٹڈی میں بہت زیادہ تبدیلیاں آتی ہیں۔انکی رنگت میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ ان کے عادات اور کھانے میں تبدیلی ہونے کے علاوہ یہ زیادہ خطرناک بن جاتا ہے۔ اس مرحلے میں ٹڈیاں جھنڈ کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔ اس مرحلے کی سب سے بڑی وجہ ان کے لیے ساز گار ماحولیاتی تبدیلی ہوتی ہے۔ زیادہ بارشیں ہونے کی وجہ سے مٹی نم ہوجاتی ہے اور سبزہ زار ہونے کی وجہ سے ٹڈیاں تیزی سے اس مرحلے میں داخل ہوتی ہیں یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جس میں بڑے بڑے جھنڈ کی شکل اختیار کرکے جہاں سے بھی گزرتی ہیں وہاں فصلوں کو تباہ کرلیتی ہیں۔ رواں سال کینیا میں ٹڈی دل کا ایک جھنڈ چالیس بائی ساٹھ کلومیٹر پایا گیا جبکہ ایک سکئیر کلومیٹر میں تقریبا ایک سو پچاس ملین ٹڈیاں ہوسکتی ہیں۔ علاوہ ازیں، ایک جھنڈ ایک دن میں دوہزار پانچ سو افراد کا کھانا کھانے کی طاقت رکھتی ہیں۔ ان اعداد و شمار سے ان کے خطرناک
ہونے کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
ویسے تو ٹڈی دل کا ذکرمذہبی کتابوں میں بھی موجود ہے لیکن قدیم یونان میں ان کے مختلف تعمیرات پر ٹڈی کے نقش شدہ نقشوں سے پتہ چلتا ہے. ان کی تاریخ دوہزار چار سو قبل مسیح سے چلتا آرہا ہے۔ لیکن آج کے تاریخ میں ٹڈی حملے ماحولیاتی تبدیلی بتائی جاتی ہے۔بحرہ ہند میں زیادہ گرمائش کی وجہ سے بارشیں زیادہ ہورہی ہے۔دسمبر 2019 میں مشرقی افریقہ میں خطرناک قسم کے سیلاب،اوربارشوں کہ وجہ سے ہوا میں نمی اور ماحولیاتی تبدیلی نے ٹڈیوں کے لیے ماحول سازگار بنا دیا۔زرخیز مٹی اور زیادہ گھاس اگنے کہ وجہ سے فروری
2020ء میں افریقہ میں ٹڈی دل نے تباہی مچادی اور یوں افریقہ سے ہوتا ہوا ایران اوپھر پاکستان میں ان کے بھیڑ داخل ہونے لگے۔
پاکستان میں اس وقت ٹڈی دل کی تباہ کاریوں کو روکنے کے لیے حکومتی سطح پراطمینان بخش اقدامات تاحال نہیں اٹھائے گئے جس کی وجہ سے ملک میں شدید غذائی قلت کا خطرہ ہے.ملک کے مختلف علاقوں میں کساں اپنی مدد آپ کے تحت شور کے ذریعے ٹڈیوں کو دور بگھانے میں نظر آتے ہیں۔ رواں ہفتے امریکی ادارے فوداینڈ ایگریکلچر نے پاکستانی حکام کو خبردار کیا کہ پاکستان میں بارشیں زیادہ ہونے کہ وجہ سے ٹڈی دل حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوسکتا ہے۔
ٹڈی دل کے حملوں سے زراعت کو بچانے کے لیے ان پر ہوائی جہاز کے ذریعے insecticides یا
pesticides اسپرے کیا جاسکتا ہے۔پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں ایک چھوٹے سے اسکیل پر ایک بہترین حل ڈھونڈیا لیا گیا ہے۔ Ministery of National Food Securuty and Research کے ایک ملازم محمد خورشید اور
Technologist of Pakistan Agriculture and Reseach Council ؓBio میں کام کرنے والے جوہر علی نے کسانوں کو ٹڈی دل جال کے ذریعے پکڑنے اور پھر کو کہا تھا۔ دونوں نے کسانوں مشورہ دیا تھا کہ ٹڈی دل کے ایک کلو پر انہیں بیس روپے ادا کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک کسان ایک رات میں تقریبا بیس ہزار روپے کماسکتا ہے۔ ٹڈیوں کو خریدنے کے پیچھے درصل ان کامقصد یہ تھا کہ پاکستان جو مرغیوں کا دانہ سویابین دوسرے ممالک سے خریدتا ہے کیوں نہ ان ٹڈیوں کو مرغیوں کے خوراک کے طور پر استعمال کیا جائے جو کہ Animal Feed Industry کے لیے بھی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

No comments:
Post a Comment