نوجوانوں کے نام:
عطاءاللہ کاکڑ.
The soldier age.
نوجوان ہمیشہ پر جوش، جزباتی اور خطرات کا سامنا کرنے والے ہوتے ہیں. وہ عملی زندگی میں کسی فلمی ہیرو یا اسٹنٹ مین سے کم نہیں ہوتے. تیز رفتار سے موٹرسائیکل چلانا، ون ویلنگ کرنا اور لوگوں کے سامنے جان لیوہ کرتب دکھانا نوجوانوں کا مشغلہ ہے یا یوں کہیں کہ موت سے کھیلنا نوجوانوں کے لیے ایک فطری عمل ہے. ژوب توریان سے نکلتے ہی سلیازہ تک خوفناک رونٹے کھڑے کردینے والے مناظر معمول کی بات ہے.نوجوانوں کی اس فطرت کو ویلیم شکسپیر نے اپنے مشہور نظم "The seven stages of man" "انسانی عمر کے سات مراحل" میں سے ایک "The soldier age" کا نام دیا ہے.
شکسپیر عمر کے اس مرحلے سولجر ایج (Soldier age )کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ Soldier age میں انسان ایک سپاہی جیسے حرکات اور خصوصیات اپناتا ہے. وہ عجیب و غریب قسم کی منتیں کرتا ہے. اس کے منہ(چہرے) پر چیتے کی طرح بال نکلتے ہیں .وہ کسی سے بھی جھگڑنے میں دیر نہیں کرتا اور اپنی وقار کی خاطر ضدکرتاہے.اپنی عظمت کے لیے وہ توپ کے منہ میں بھی جان ڈالنے سے نہیں کتراتا.
بالکل اسی طرح ہمارے نوجوان بھائی بنا کسی خوف وڈر کے، بنا آگے پیچھے دیکھے،اپنے پیچھے رونے دھونے والوں کا خیال کئے،خطرات مول لیتے ہیں.
شکسپیر کا نظم یوں یاد آیا کہ کھبی اگر موت کا نظارہ دیکھنا ہو تو سلیازہ روڈ پر کوئی جاکے تو دیکھے ان کو Soldier age کا مطلب واضح طور پر سمجھ آجائےگا.کل کے حادثے میں جان بحق ہونے والے نوجوان کو اللہ تعالی جنت الفردوس نصیب فرمائے. آمین.
ژوب شہر میں اس طرح کے حادثات کا ہونا کوئی نئی بات نہیں نہ اس نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے سلیازہ روڈ ہو یا کوئٹہ روڈ بہت سے نوجوان اپنی زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں. جن میں بلاشبہ کئی بار ان نوجوانوں کی ہی غفلت شامل ہوتی ہے.
ژوب کے نوجوان طبقے سے پرزور اپیل ہے کہ خدا کے لیے اپنے عزیز و اقرباء کو غم نہ دیں. اس سے بہتر ہے کہ اپنے قوم اور وطن کے لیے عملی زندگی میں ایک مثالی کردار نبائے نہ کہ موت کے منہ میں ہاتھ ڈال کر اپنے ماں باپ کی زندگی کو اپنے پیچھے عذاب بنائے. جوانی کا یہ جزبہ کسی مثبت عمل میں لگائے. موٹرسائیکل اور گاڑھی کو تیز چلاکر لوگوں سے داد وصول کرنے سے بہتر ہے اس انرجی کو کسی ایسے کام میں لگالے تاکہ ہزاوروں لوگوں کو خوشی ملے. دس منٹ میں سلیازہ پہنچنے کو ترک کرتے ہوئے کبھی کسی پیدل چلتےبوڑھے معذور یا مسافر کو بٹھاکے دیکھ لے کہ خوشی تیز چلانے میں ہے یا کسی کا سہارا بننے میں.اپنے آپ اور ماں باپ کے دشمن نہ بنے بلکہ لوگوں کا سہارا بنے. کسی کا سہار بن کر دکھائے. اپنے ماں باپ کا سہارا بن کے دکھائے. تمہارے جنازے کو کندھا دینے کے لیے تمہارےماں باپ کمزور ہیں ان کو زندگی میں کندھا دے کے ان کے بڑھاپے میں سہارا بننے کی کوشش کرے. 🙏
by Atta Kakar

No comments:
Post a Comment