عرض گزارش لکھنے کا مدعا کچھ یوں ہیں کہ مصیبت کے اس نازک صورتحال میں کروناوائرس نے زندگی میں مشکلات تو پیدا کردی ہے ۔ ان حالات میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ متاثرین کی ہر ممکن مدد کریں ۔
ملکی انتظام و انصرام کی رو سے حکومت وقت کے پاس انتظامی سطح پر کسی بھی قدرتی آفت سے نمٹنے کے لئے عموما تین پلان ہوتے ہیں ۔ جنھیں اصطلا ح میں پلا ن اے ، پلان بی ، اور پلان سی کہاجاتاہے ۔
پلان اے (Plan A)
اس کے مطابق جائے وقوعہ یا متاثرہ جگہ پہنچنا ۔ متاثرین کو ہسپتال منتقل کرنا اور بصورت موت مرنے والوں کی تدفین کرنا۔
پلان بی (Plan B)
اس کے تحت زندہ بچ جانے والے متاثرین کی فوری امداد ، خوراک کا بندوبست ، ادویات کی فراہمی اور عارضی قیام کے لئے انتظامات کرنا ۔
پلان سی (Plan C)
اس طویل المدتی پلان کا تعلق دوبارہ تعمیر و بحالی (Reconstruction & Rehabilitation) سے ہیں ۔ یہ اکثر اس وقت مستعمل ہے جب کوئی سیلاب یا زلزلہ ہو ۔
لہذا درج بالا بیان کردہ تین پلان میں سے کرونا کے حوالے سے پہلے دو زیادہ اہمیت کے حامل ہیں ۔ کرونا وائرس سے بچاو کی خاطر پلان اے کے مطابق حکومت نے پہلے ہی سے قرنطینہ سنٹر قائم کئے ہیں ۔ مگر ژوب جیسی بڑی آبادی پر مشتمل شہر میں لیبارٹری کا قیام تاحال نہیں کیا گیا ۔امیدہے کہ یہ بندوبست جلد از جلد ممکن ہو۔
اسی طرح پلان بی کے تحت زوزگار کی بندش کی وجہ سے مکمل طور پر تما م متاثرین کے لئے مکمل بندوبست حکومتی سطح پر عمل میں نہیں لایا گیا ہے۔
بحثیت مسلمان ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کی حتی الامکان مدد کریں ۔
اللہ پاک قرآن عظیم میں فرماتا ہے ۔
ترجمہ:مومنو! اپنے صدقات (وخیرات)احسان رکھنے اور ایذا دینے سے اس شخص کی طرح برباد نہ کر دینا ۔جو لوگوں کے دکھاوے کے لیے مال خرچ کردیتا ہے۔اور خدا اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔تو اس (کے مال)کی مثال اس چٹان کی سی ہے جس پر تھوڑی سی مٹی پڑی ہوااور اس پر زور کا مینہ برس کر اسے صاف کر ڈالے، اسی طرح یہ (ریاکار ) لوگ اپنے اعمال کا کچھ حصہ بھی حاصل نہیں کرسکیں گے۔اور خدا ایسے ناشکروں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ (سورہ البقرہ آیت نمبر( ۴۶۲)۔
وہ ممالک جہاں پہلے ہی سے انٹرنیٹ کے ذریعے بزنس عام ہیں جسے اصطلاح میں ای بزنس کہاجاتا ہے ۔وہاں لیبر گھر سے بھی آن لائن اپنی بزنس حکومت سے اجازت نامہ لیکر چلارہے ہیں ۔ بدقسمتی سے پاکستان میں کوئی ایسا وسیع سطح پر انٹرنیٹ مارکیٹنگ نہیں ہیں ۔ یہاں کروڑوں مزدوروں کارخانون ،صنعتوں ، اور تعمیراتی کاموں میں ہاتھ پاوں کی مزدوری سے وابستہ ہیں ۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان بھر میں محنت مشقت کرنے والوں کی تعداد تین کروڑ سے بھی زیادہ ہیں ۔ محکمہ افرادی قوت (لیبر ڈیپارٹمنٹ ) کی جانب سے کسی حد تک کام کا آغا ز ہوگیا ہے ۔ مگر ایسے غریب بھی موجود ہیں جن کو متعلقہ ادارے کے بارے میں لاعلم ہے یا ان تک رسائی بھی نہیں رکھتے ہیں ۔ لازم ہے کہ حکومت بڑے پیمانے پر مختلف ٹیموں کے ذریعے تمام متاثرین کی لسٹ بنا لیں ۔ اور ماہانہ کی بنیاد پر ان کی امداد یقینی بنائیں ۔
تاکہ ایک باضابطہ ریکارڈ کے تحت مستحق لوگوں تک کھانے پینے کی اشیاءپہنچائی جائے۔ اس کے علاوہ ِصاحب استطاعت افراد اپنی ایک منتخب شدہ ٹیم کے ذریعے اپنے علاقے کے مستحقین کی باقاعدہ انٹری کرکے ان میں راشن تقسیم کرے۔ تاکہ دیے گئے صدقات اللہ تعالی کی بارگاہ میں قبول ہوجائے اور ان حاجت مندوں کی عزت نفس کو بھی ٹھیس نہ پہنچیں اور بلا جھجھک کے اپنے بال بچوںکو ان سنگین حالات میں دو وقت کی روٹی کھلاسکیں۔

No comments:
Post a Comment