Tuesday, November 17, 2020

آن لائن کلاسز اور طلباءکی شکایات



    کرونا وائرس کی آفت سے پاکستان بحثیت ملک اپنے ا ٓپ کو محفوظ رکھنے کی ایمرجسنی بنیادوں پر گامزن ہے۔تمام نظام زندگی مفلوج ہورکررہ گئی ہے ۔ہرطرف سناٹا چھایا ہواہے ۔ تما م انسان نفسیاتی خوف کے شکار ہیں ۔ ان حالات میں تعلیی سرگرمیاں معطل رکھنے کا جواز یقینا لازمی ہے۔مگر کچھ سوالات ایسے بھی ہیں جن کی اگر بروقت کوئی نہ کوئی حل نکل آئیں تو بہت سے خدشات قبل از وقت دور ہوسکے ہیں ۔ ان میں تعلیمی اداروں کی بندش اور پھر آن لائن کلاسز کاآغاز طلباءو طالبات کیلئے اگر ایک طرف نویدسے کم نہیں تو دوسری طرف زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے ان کے لئے مشکلات بھی تو موجود ہیں ۔

 تعطیلات کے حوالے سے وزارت تعلیم نے ایک نوٹیفیکیشن جاری کی جس میں ملک بھر کے تمام سرکاری وغیرسرکاری اداروں کو 31 مئی تک بند رکھنے کی ہدایات کی گئی۔مگر ہائر ایجوکمیشن آف پاکستان نے تمام جامعات کو فاصلاتی نظام تعلیم کے ذریعے آن لائن لیکچرز دینے کی ہدایت کی ہیں۔ اگرچہ بعض جامعات نے آن لائن کلاسزکا آغاز تو کردیا ہے مگر ملک کے طلباءمیں یہ تشویش زورپکڑ رہی ہے کہ ایسانہ ہو کہ وہ اس سہولت سے محروم رہے ۔اور منعقد ہونے والے امتحانات میں فیل نہ ہوجائے اسی وجہ سے سوشل میڈیا پربڑی تعداد میں طلباءو طالبات کی جانب سے شکایات منظر عام پر آرہی ہیں۔
   مثال کے طورپر بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری کی وجہ سے طلباءکو بہت سے مشکلات درپیش ہونگے۔ صوبے کے دور دراز اور دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلباءجن کو یا تو انٹرنیٹ تک رسائی حا صل نہیںہے اور اگر ہے تو وہ اس قدر سست رفتار ہے کہ بمشکل ایک ویڈیو چل جاتی ہے۔صوبے کے دارالخلافہ کوئٹہ بشمول دیگر اضلاع جیساکہ ژوب ،لورالائی،±قلعہ سیف اللہ، پشین،شیرانی،موسی خیل، ہرنائی، تربت ،پنجگور،آواران اور پسنی وغیرہ آن لائن تعلیم سے محروم ہیں۔
   اس کے علاوہ، طلباءکی ایک بڑی تعدا اسمارٹ فون اور کمپیوٹر کے استعمال سے بھی کافی ناواقف ہیں ۔ جبکہ ایسے طلباءبھی کثرت سے موجود ہیں جو غربت کی وجہ سے ان جدید سہولیات کو خریدنے کی بس نہیں رکھتے ہیں ۔ 
   جامعہ بلوچستان اور بیوٹمز میں نئے تعلیمی سال کے لئے داخلوں کا مرحلہ مکمل ہوگیا ۔ مارچ کے پہلے ہفتے میں کلاسز کا باقاعدہ آغاز ہونے والا تھا مگر کرونا وائرس آڑے آگئی ۔
   کروناوائرس کی وجہ سے جس طرح سے ہر طرف خوف و ہراس کا ماحول پیدا کیا ہے جس کی وجہ سے معاشرے کی دوسرے افراد کی طرح طالب علموں کو بھی نفسیاتی طور پر متاثر کیا ہے۔ ایسی صورتحال میں جہاں طالب علموں کے سامنے اساتذہ موجود نہ ہو نہ آمنے سامنے سوال پوچھنا ہو ایسے میں درس و تدریس کی تسلسل میں رکاوٹیں تو پیدا ہوتی رہی گی؟
  وفاقی وزیرتعلیم ،صوبائی وزیرتعلیم اور دیگر ارباب اختیار سے پرزور اپیل کی جاتی ہیں کہ وہ آن لائن کلاسز میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے عملی اقدامات اُٹھائیں تاکہ آن لائن تعلیی سرگرمیاں ادھورے نہ رہ جائیں ۔ 

No comments:

Post a Comment