عطاء اللہ کاکڑ
انگریزی کی ایک مشہور کہاوت ہے کہ
pen is mightier than sword
یعنی قلم توار سے زیادہ طاقت ور ہے۔ پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر شادی کے تقریب کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ساس اپنے داماد کو کلاشنکوف کا تحفہ دے رہی ہے۔ اس بات کو کسی نے سراہا تو کسی نے اس پر اظہار افسوس کیا۔ویسے تو تحفے تحائف کی روایات زمانہ قدیم سے چلتی آرہی ہے۔ چاہے دو افراد کے درمیان تحائف کا تبادلہ ہو یا دو ممالک کے درمیان یہ ہمیشہ سے اچھے اور خوشگوار تعلقات کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ عموما تحفہ دینے والے پر انحصار کرتا ہے کہ وہ کیا تحفہ دینا چاہتا ہے۔ تحفہ بہت قیمتی ہو یا کم قیمت اس کی اہمیت اپنی جگہ بر قرار رہتا ہے اور وصول کرنے والا کبھی یہ گلہ نہیں کرتا کہ پیش کیا گیا تحفہ کس قدر مہنگا ہے یا سستا۔ بلکہ تحائف میں محض محبت، شفقت اور جزبات اور احساسات کا عنصر پایا جاتا ہے۔ بعض اوقات تحائف انعامات کے طور پر بھی دیے جاتے ہیں
تحائف کو اسلامی نقطہ نظر سے اگر دیکھے تو حضرت محمد ﷺ نے بھی تحائف کو بہترین عمل قرار دیا ہے اور فرمایا کہ تم تحائف دیتے رہا کرو کہ اس سے باہمی محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔حضور ﷺ کے پاس نو تلواریں تھیں ان میں سے ایک تلوار عضب انہیں صحابی سعد بن عبادہ الانصاری رض نے غزوہ احد سے پہلے تحفے میں دی تھی۔
آپ نے زمانہ قدیم کی ایسی بہت سی قصے کہانیاں سنی ہونگی کہ فلاں بادشاہ کا بیٹا یا بیٹی یا بادشاہ خود کسی مہلک بیماری میں مبتلا تھا تمام سرکاری طبیب، حکیم وغیرہ سب ناکام ہوتے تو ایک فقیر درویش جڑی بوٹیوں سے علاج کرتا اور بدلے میں وزارت مل جاتی تھی۔ پھر ایک دور آیا جب سفارتی سطح پرایک بادشاہ دوسرے کو بیش بہا تحائف دیا کرتے تھے جن میں سفید ہاتھی، گھوڑے اور جواہرات دیے جاتے تھے۔سفید ہاتھی کا تحفہ سب سے زیادہ قیمتی سمجھا جاتا تھا۔ کبھی کبھار تو تحفہ دینے والے سے زیادہ موصول کرنے والا پریشانی کی عالم میں رہتا تھا۔ظاہر ہے کہ سفید ہاتھی پر محنت مزدوری تو کرتا نہیں تھا اس لیے اس سے سنبھالنا اور اس کا خرچ اٹھانا اور مشکل کام ہوتا تھا۔ کچھ ایسی دلچسپ مثالیں ہمیں جدید سیاسیات اور بین الاقوامی سطح پر ملتیں ہیں۔امریکی صدور کو جو بھی تحائف ملتے ہیں انہیں ذاتی ملکیت میں نہیں رکھ سکتے۔ امریکی قوانین کے مطابق سرکاری ملازم کو ملنے والے تحفے کی قیمت اگر تین سو نوے ڈالر سے زیادہ ہو تو اسے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ یا عجائب گھر میں رکھنا پڑتا ہے۔ اگر سیاست دان انہیں واپس بازاری داموں میں خریدنا چاہے تو خرید سکتے ہیں۔ موجودہ دور میں تحائف امریکی سرکاری ہلکاروں کے لیے سفید ہاتھی کی مانند ہیں۔پاکستان میں اس کے لیے اس عمل کے لیے توشہ قوانین موجود ہیں جن میں مختلف سیاستدانوں کی کیسز ناجانے کب سے اپنی باری کا انتظار کرہے ہیں۔
تحائف پر کوئی پابندی نہیں ہے کہ تحفے میں پیش کئے جانے والا کیا ہے یا کتنی مالیت کا ہے۔ اب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آج تحائف مقامی ثقافت کی نمائندگی کرتا ہے۔ ہمارصبح کی شروعات چیونکہ خون، جنگ وجدل مذہبی فسادات اور فتووں اور توہین رسالت جیسے معاملات کے ساتھ شروع ہوتا ہے اس لیے ہمارے ہاں تحائف میں پیش کئے جانے والا سب سے اعلی تحفہ تلوار ہے نہ جانے کب کس کا سر تن سے جدا کرنے کی ضرورت پڑے۔ ہر نجی و سرکاری مہمان خاص کو ایک عدد تلوار پیش کیا جاتا ہے جو بڑے فخر کے ساتھ گھر کے مہمان خانے یا دفتر میں دیوار کی زینت بنا لیا جاتا ہے۔ ایک طرف عیدین کے موقع پر بچوں کے ٹوئز گن پر پاندی لگاتے ہیں جبکہ افسران کو تحفے میں تلوار تمھا لیتے ہیں۔ڈر تو یہ لگتا ہے کہ خدا نخواستہ تلوار کا رواج اتنا باثر ہوجائے کہ سکولوں میں بچوں کو ٹرافی کی بجائے تلوار سے نہ نوازیں۔ہمارا مسئلہ غربت، زبوحال معیشیت، اور دہشت گردی ہے جس کے لیے ہمیں تعلیم و تربیت کی ضرورت ہے۔قلم اور کتاب کی ضرورت ہے نہ کہ تلوار بازی کی نہیں۔ اول تو یہ کہ متعلقہ شعبے کے مطابق انعام اور تحائف دینی چاہیے۔ دوئم جن معاشی مشکلات کا ہمارا معاشرہ شکار ہے ان میں سب سے بہترین تحفہ اور انعام معاشی طورضروریات کو مدنظر رکھ کر دیے جانے چاہیے۔


زبردست تحریر ۔
ReplyDelete