Thursday, December 31, 2020

چند اہم نکات

 عطاء کاکڑ۔


 سن 2020 ء  میں بنی نوع انسان  بے مثال تجربات سے گزریں   جبکہ نیا سال بھی  

کچھ مختلف نظر نہیں آرہا۔لیکن جیسا کہ کہا گیا ہے کہ دنیا امید پر قائم ہے نئے سال 

میں ہم دنیاوی حالات کو بہتر دیکھنے کے لیے مثبت سوچ اور امیدیں قائم کرسکتے 

ہیں۔ نئے سال کا مقصد نئے مواقع اور زندگی کو ایک نئے سرے سے شروع کرنے 

کا  ناقابل تردید حقیقت ہے۔مستقبل کی طرف بڑھتے ہوئے چند اہم نکات کو نظر انداز 

نہیں کیا جا سکتا۔جن میں سب سے اہم قدرت پر یقین رکھنا۔ یہ ذہن میں رکھنا کہ آفت

 کبھی بھی کسی بھی صورت میں آسکتا ہے۔ انسان کو ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے 

کہ قدرت کے وسائل کے ساتھ ساتھ قدرتی آفا ت بھی وجود رکھتے ہیں اور یہ نسل 

انسانی کیے بلا تفریق ہیں۔ علاوہ ازیں، مستقبل میں معلومات تک رسائی اتنی مشکل 

نہیں سب سے اہم چیز skillsہیں۔ اگر آپ کے پاس کوئیskills نہیں تو آپ کے لیے 

دنیا کی تیز رفتاری کا مقابلہ کرنا مشکل ہوگا۔ تیسری اور سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ

 ایک طرف اگرچہ ا پہلی دفعہ موجودہ نسل سماجی فاصلے کے تجربے سے گزرہا 

ہے لیکن باوجود اس کے انسانیت  بلا شبہ رنگ، نسل اور عقائد سے قابل ترجیح 

ہے۔ ہم زمیں پر رہنے والے انسان احساساتی طورآپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ 


Tuesday, December 22, 2020

ہمارا قومی تحفہ

   

  عطاء اللہ کاکڑ


               انگریزی کی ایک مشہور کہاوت ہے کہ  

pen is mightier than sword     

یعنی قلم توار سے زیادہ طاقت ور ہے۔ پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر شادی کے تقریب کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ساس اپنے داماد کو  کلاشنکوف کا تحفہ دے رہی ہے۔ اس بات کو کسی نے سراہا تو کسی نے اس پر اظہار افسوس کیا۔ویسے تو تحفے تحائف کی روایات زمانہ قدیم سے چلتی آرہی ہے۔ چاہے دو افراد کے درمیان تحائف کا تبادلہ ہو یا دو ممالک کے درمیان یہ ہمیشہ سے اچھے اور خوشگوار تعلقات کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ عموما تحفہ دینے والے پر انحصار کرتا ہے کہ وہ کیا تحفہ دینا چاہتا ہے۔ تحفہ بہت قیمتی ہو یا کم قیمت اس کی اہمیت اپنی جگہ بر قرار رہتا ہے اور وصول کرنے والا کبھی یہ گلہ نہیں کرتا کہ پیش کیا گیا تحفہ کس قدر مہنگا ہے یا سستا۔ بلکہ تحائف میں محض محبت، شفقت اور جزبات اور احساسات کا عنصر پایا جاتا ہے۔ بعض اوقات تحائف انعامات کے طور پر بھی دیے جاتے ہیں 

           تحائف کو اسلامی نقطہ نظر سے اگر دیکھے تو حضرت محمد ﷺ نے بھی تحائف کو بہترین عمل قرار دیا ہے اور فرمایا کہ تم تحائف دیتے رہا کرو کہ اس سے باہمی محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔حضور ﷺ کے پاس نو تلواریں تھیں ان میں سے ایک تلوار عضب انہیں صحابی سعد بن عبادہ الانصاری رض  نے غزوہ احد سے پہلے تحفے میں دی تھی۔ 

               آپ نے زمانہ قدیم کی ایسی بہت سی قصے کہانیاں سنی ہونگی کہ فلاں بادشاہ کا بیٹا یا بیٹی یا بادشاہ خود کسی مہلک بیماری میں مبتلا تھا  تمام سرکاری طبیب، حکیم وغیرہ سب ناکام ہوتے تو ایک فقیر درویش جڑی بوٹیوں سے علاج کرتا اور بدلے میں وزارت مل جاتی تھی۔ پھر ایک دور آیا جب سفارتی سطح پرایک بادشاہ دوسرے کو بیش بہا تحائف دیا کرتے تھے جن میں سفید ہاتھی، گھوڑے اور جواہرات دیے جاتے تھے۔سفید ہاتھی کا تحفہ سب سے زیادہ قیمتی سمجھا جاتا تھا۔ کبھی کبھار تو تحفہ دینے والے سے زیادہ موصول کرنے والا پریشانی کی عالم میں رہتا تھا۔ظاہر ہے کہ سفید ہاتھی پر محنت مزدوری تو کرتا نہیں تھا اس لیے اس سے سنبھالنا اور اس کا خرچ اٹھانا اور مشکل کام ہوتا تھا۔ کچھ ایسی دلچسپ مثالیں ہمیں جدید سیاسیات اور بین الاقوامی سطح پر ملتیں ہیں۔امریکی صدور کو جو بھی تحائف ملتے ہیں انہیں ذاتی ملکیت میں نہیں رکھ سکتے۔ امریکی قوانین کے مطابق سرکاری ملازم کو ملنے والے تحفے کی قیمت اگر تین سو نوے ڈالر سے زیادہ ہو تو اسے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ یا عجائب گھر میں رکھنا پڑتا ہے۔ اگر سیاست دان انہیں واپس بازاری داموں میں خریدنا چاہے تو خرید سکتے ہیں۔ موجودہ دور میں تحائف امریکی سرکاری ہلکاروں کے لیے  سفید ہاتھی کی مانند ہیں۔پاکستان میں اس کے لیے اس عمل کے لیے توشہ قوانین موجود ہیں جن میں  مختلف سیاستدانوں کی کیسز ناجانے کب سے اپنی باری کا انتظار کرہے ہیں۔ 



              تحائف پر کوئی پابندی نہیں ہے کہ تحفے میں پیش کئے جانے والا کیا ہے یا کتنی مالیت کا ہے۔ اب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آج تحائف مقامی ثقافت کی نمائندگی کرتا ہے۔ ہمارصبح کی شروعات چیونکہ خون، جنگ وجدل  مذہبی فسادات اور فتووں اور توہین رسالت  جیسے معاملات کے ساتھ شروع ہوتا ہے اس لیے ہمارے ہاں تحائف میں پیش کئے جانے والا سب سے اعلی تحفہ تلوار ہے نہ جانے کب کس کا سر تن سے جدا کرنے کی ضرورت پڑے۔ ہر نجی و سرکاری مہمان خاص کو ایک عدد تلوار پیش کیا جاتا ہے جو بڑے فخر کے ساتھ گھر کے مہمان خانے یا دفتر میں دیوار کی زینت بنا لیا جاتا ہے۔ ایک طرف عیدین کے موقع پر بچوں کے ٹوئز گن پر پاندی لگاتے ہیں جبکہ افسران کو تحفے میں تلوار تمھا لیتے ہیں۔ڈر تو یہ لگتا ہے کہ خدا نخواستہ تلوار کا رواج اتنا باثر ہوجائے کہ سکولوں میں بچوں کو ٹرافی کی بجائے تلوار سے نہ نوازیں۔ہمارا مسئلہ غربت، زبوحال معیشیت، اور دہشت گردی ہے جس کے لیے ہمیں تعلیم و تربیت کی ضرورت ہے۔قلم اور کتاب کی ضرورت ہے نہ کہ تلوار بازی کی نہیں۔ اول تو یہ کہ متعلقہ شعبے کے مطابق  انعام اور تحائف دینی چاہیے۔ دوئم جن معاشی مشکلات کا ہمارا معاشرہ شکار ہے ان میں سب سے بہترین تحفہ اور انعام معاشی طورضروریات کو مدنظر رکھ کر دیے جانے چاہیے۔ 

 

Monday, December 21, 2020

Procrastination



By Atta Kakar


             Procrastination simply means to delay in work, plans or something that is kept in mind to do. Every year, a majority of people, students plan several goals to achieve in a particular period, but when it comes to do that in practical, it becomes harder to start working on it. They keep themselves busy in useless activities that are not primarily necessary, but just to avoid working on the plan that was made earlier.

           A number of reasons are there why does a person become a victim of procrastination such as lack of energy, time management and a proper road map. At the beginning, it is easier to put down on a paper sheet your up to do task, but in practical it may not be that much easy.

             Let us see an example of Nazir Sabir, a Pakistani mountaineer. He was born in Hunza. He has climbed Mount Everest and four of the five 8000 m peaks in Pakistan, including the world's second highest mountain K2 in 1981, Gasherbrum II 8035m, Broad Peak 8050m in 1982, and Gasherbrum I (Hidden Peak) 8068m in 1992.

      Before starting his journey and standing on top of the Mount Everest, Nazir Sabir was standing down the mountain, it was his assiduity that took him on the top of the world’s highest mountain. There is no denying of the fact, climbing the Mount Everest, he had a proper planning, discussed it with the experts and made strategy for the journey. He could have been procrastinated and hesitated, but not because it was the dream that he had to achieve and he succeeded.

 

        Bigger or smaller the task seems difficult at the beginning. For instance, A friend of  asked to guide him for study and reading books on several subjects. He was quite interested, so as per his zeal and zest, I guided him. After couple of weeks when I acquired about the plan, he was excusing and arguing that he had not started reading books. When I further asked about his daily activities, I shocked when learnt that he is still confused what to do and what not to do. What I realized after that he was a victim of procrastination and now it was required to treat him and get him out of the dilemma. And to be honest I myself was suffering from the situations and still it happens sometimes.

          What the experts the experts suggest regarding the procrastination, are one should make strategy how to achieve the task rather then when to get it started.Secondly, one should divide the work into  pieces so that it would not be like a burden on his shoulder. By dividing the task, it will be easy to achieve the short pieces by working on it in a gradual process. Thirdly, Replace the habit with 'do it now' habit. Fourthly, be in an inspiring environment, fifthly do not seek to be perfect and lastly, reward yourself and appreciate your efforts.

Sunday, December 13, 2020

The significance of laughter therapy

 

By: Atta kakar

  The significance of laughter therapy

                                          

               Habib Panezai   (Char Gul)             Amanullah Nasar

                  The most prominent comic actor of the 20th century, Charlie Chaplin said “Laughter is the tonic, the relief, the surcease for pain." In fact, laughter therapy is the procedure to resurrect the positive emotions, and to help decreasing the depression level.

                   In the modern world, laughter therapy is exercised at laughter clubs. Sometimes, people are to pay for joining such places where they are being provided an opportunity to fight the stressors through laughter practices such as laughter yoga.

          In particular, especially in the Pashtun tribes, it has been a longstanding tradition having gatherings of friends and enjoying themselves. On the hand, professional comedians have never been encouraged due to strict local conservatism.

Razz Muhammad (Razo Comedian)
https://youtu.be/4fpr9dVuFGc
https://web.facebook.com/RazoComedian

          It happened years ago, with a natural and talented comedian Razz Muhammad. Since his name is Razz (a secret) but his talent is not neither can be” Razo’s small town guy, of Lorlai. He faced numerous obstacles, discouragement and was completely ignored in the region. He himself mentioned it several times that his comedy is not to target a particular group, but just to entertain his people. An artist presents what he sees and observes in the society. Razz’s parody does the same. It is worth to mention that the artist gives a strong message in his satiric style to the various people such as doctors, engineers, teachers, drivers and political representatives in particular.

        After a long period, the comedian returned with much too impressive impact and welcomed by the progressive youth. Last month when the comic actor visited the university of Balochistan, his fan following shown how much he is loved by the young generation. It is appropriate to mention here, Razo comedian is being helped and promoted by some of the local guys in a professional way. They launched a YouTube channel for him ‘Razo Comedian’ and within a month it crossed 5 thousand subscribers.

             Previously, in Balochistan a great number of Balochi and Pashto comedians were playing their part to spread happness and joy among the people.For examples, Moeen Akhtar in Pakistan and in Balochistan Amanullah Nasar, Habib Panezai(best known Char Gul), Baloch Khan Nasar(the Late) , Hassan Achakzai were the famous names in the province . PTV Bolan was promoting the local comedians, but from the last few years, the stage programs and the comedy dramas are not transmitted on the channel due the comic actors  are forgotten.    In short,  Life is a problematic .To have few hours with re freshening mind, one should make habits to watch comedy for 10 minutes daily.



Friday, December 11, 2020

ملالہ سے ملالہ تک : عطاء اللہ کاکڑ

 





15 نومبر 1999ء کی صبح ریڈیو شریعت کابل نے اعلان کیا کہ کل صبح کابل فٹبال اسٹیدیم میں سرعام سزائے موت دی جائے گی۔اس خبر کو سنتے ہی اگلی صبح سولہ نومبر کابل فٹبال اسٹیڈیم میں عام لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی، طالبان راہ گیروں کو اسٹیدیم کے اندر جانے اورر موت کا تماشہ دیکھنے کے لیے کہہ رہے تھے۔ سرعام سزائے موت کا وقت دو بجے رکھا گیا تھا۔ شروع کے ۰۲ سے ۰۳ منٹ طالبان لیڈران اسلامی بیانات کرہے تھے۔ آج وہ خوش تھے کہ خدا کی زمین پر خدا کا قانون نافظ کیا جارہا ہے۔ طالبان کونسل،طالبان شریعہ لاء اور امیر امارت اسلامی
ملا محمد عمر نے خود اس سزائے موت کی منظوری دی تھی۔
زرمینہ دو اور خواتین کے بیچ ایک سرخ رنگ کی پک اپ میں بیٹھی ہوئی تھی۔وہ نیلے رنگ کے برقوں میں ملبوس تھیں۔گراونڈ میں موجود عوام میں خوف و ہراس تھا۔ کابل اسٹیدیم جو کبھی کھیل کا میدان تھا آج موت کا میدان بننے جارہا تھا یہ منظر اوپر خدا اور نیچے موجود عوام اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔زرمینہ گٹنوں کے بل زمین پر گرتی ہے اور ایک مجاہد اللہ کی رضا کے لیے اس کے سر پر کلاشینکوف رکھتا ہے۔خوف کی وجہ سے لوگوں کی آوازیں تھم گئیں۔ اچانک گولی کی گونج چلتی ہے گولی زرمینہ کے سر کو پارکرتی ہے اور یوں تاریخ می پہلی دفعہ خدا کے زمین پر خدا کا قانوں لاگو ہوکر ایک عورت کا سرعام قتل کیا جاتا ہے۔افغانستان میں اپنی نوعیت کا یہ واقع دنیا بھر میں پھیل جاتا ہے۔ اس واقعے کو
RAWAافغان خواتین کے حقوق کے ادارہRevolutionary Association of the Afghan Women نے اپنی کیمرے میں
ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا۔
افغانستان یا موت کا میدان؟ کیا بچے کیا بوڑھے،شادی یا فاتحہ ریسٹورانٹ ہو یا مسجد اسکول ہو یا مدرسہ، ہسپتال ہو یا کھیل کے میدان شہر ہو یا صحرا شاہد ہی ایسی کوئی جگہ ہو جہاں موت کا کھیل نہ کھیلا گیا ہو۔ جہاں ایک طرف شربت گلہ سترنگی آنکھوں والی ایک عام لڑکی کو دنیا بھر میں شہرت ملتا ہے وہی میوند کی ملالہ کو تاریخ میں وہ مقام ملتا ہے جس نے انگریز سامراجیت کی خلاف وطن کے لیے اپنی جان کی قربانی دی۔ دوسری افغان اینگلو وار 25جولائی 1880کو برطانوی فوج نے کندھار پر حملہ کیا۔ کندھار میں افغانوں کے سیپہ سالار ایوب خان نے انگریزوں کے خلاف مسلح جنگ شروع کی۔ایک چرواہے کی نوجوان بیٹی اپنے ہونے والے شوہر کو جنگ میں لڑتے ہوئے دیکھتی ہے۔ انگریزوں کی فتح کے امکانات بڑھ رہے تھے کہ اچانک پشتو کے لوک ٹپہ بلند ہوتا ہے:
کہ پہ میوند کی شہید نہ شوے
خدا ء گو لالیہ بے ننگئی لہ دی ساتمہ۔ اگر آج میوند میں شہید نہ ہوئے۔
بخدا تمہیں بزدلی کے لیے پال رہی ہوں۔
ٹپہ بلند ہوتے ہی افغان جنگجوں کی ہمت دگنی ہوجاتی ہے۔ اور انگریزوں کا غرور خاک میں مل جاتا ہے۔ اس جنگ میں ملالہ میوند شہید ہوگئی۔ جنہیں آج بھی پورے افغانستان میں عقیدت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
جہاں ایک طرف ملالہ میوندی کے جرائت مندانہ واقعات کو تاریخ میں اعلی مقام حاصل ہے وہی نان الیون کے بعد کئی خواتین کو موت کے نیند سلایا گیا۔ ان میں اکثریت خواتین صحافی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی خواتین کی ہیں۔جون 2007 کو کو شمشاد ٹی وی کے صحافی سانگہ امج کو دہشت گردی کے ایک حملے میں نشانہ بنایا گیاجبکہ اسی سال پہلی افغان خاتون جرنلسٹ زکیہ زکی جنہوں نے طالبان کے خلاف آواز اٹھائی کو گھر میں آٹھ مہنے کے بچے کے ساتھ لیٹے ہوئے سر پر سات گولیاں مارکر قتل کیا گیا۔ یہ سلسلہ یہاں نہیں روکا۔گیارہ نومبر 2019 کو شمشاد ٹی وی کے ایک اور خاتون نیوز کاسٹر صحافی مینہ مینگل کو ایک دھماکے میں شہید کیا گیا۔
دہشت گردی کا نشانہ صرف افغان خواتین ہی نہیں بلکہ یہ لہر پاکستان میں بھی داخل ہوا تھا۔ ۹ اکتوبر 2012 سوات کے رہنے والی ملالہ یوسف زئی بھی اس تجربے سے گزری۔ ملالہ کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ وہ اپنے علاقے سوات میں اس وقت لڑکیوں کی تعلیم کی آگاہی پھیلا رہی تھی۔سوات میں حالت اس وقت کشیدہ ہونا شروع ہواجب مقامی طالبان کمانڈر ملاٖفضل اللہ نے 2008 میں وارننگ دیا تھاکہ تمام فی میل تعلیمی ادارے ایک مہنے کے اندر اندر بند کیے جائے ورنہ برے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور ہوا بھی یوں کی گی 11سالہ ملالہ کو ظالمانہ طو ر پر تعلیم اور امن کے کیے آواز اٹھانے پر نشانہ بنایا گیا۔
1977 افغانستان اور پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والا ادارہ RAWA(Revolutionary Association of the Women of Afghanistan کی بنیاد رکھنے والی افغان طالبہ مینہ کمال جنہوں نے پشاور اور کوئٹہ میں خواتین کے حقاق اور جمہوریت کے لیے آواز اٹھائی ۔ انہوں نے نہ صرف افغانستان میں کیونسٹ حکومت اور روسی مداخلت کت خلاف مزمت کی بلکہ روسے افواج کے بعد خانہ جنگی اور طالبان حکومت میں بھی انسانی حقوق کے لیے کام کرتی رہی۔ راوا کی بنابتدائی دفتر کابل میں تھا لیکن 1980میں حالات کی کشیدگی اور افغانستان میں خانہ جنگی کی وجہ سے پاکستان منتقل کیا گیا۔ اکیس سالہ مینہ نے افغان بچوں کے لیے اسکول، ہسپتال اور دستکاری کے ادارے شروع کیے۔ لیکن بد قسمتی سے ان کے ان خدمات کا بدلہ بھی موت کی شکل میں ملا۔ اور 4 فروری 1987 کو بلوچستان کے درالحکومت کوئٹہ میں قتل کی گئی۔
جہاں ایک طرف حالیہ افغان امن معاہدے کی بحث چل رہی وہی افغانستان میں ایک اور خاتون صحافی کا قتل افسوس نا ک ہے۔ مشرقی افغانستان کے شہر جلال آباد میں ملالہ مومند کو اپنی گاڑی میں دفتر جاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔ یاد رہے کہ افغان حکومت کی اکیس رکنی وفد میں تین خواتین بھی شامل ہیں جن کا موقف ہے کہ طالبان کے ساتھ امن معاہدے میں خواتین کے حقوق اور تعلیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ دوسری جانب طالبان بھی اس بات پر امادہ ہے کہ اگرچہ انہیں افغانستان شرعی نظام نظام کا نفاذ چاہتے ہیں لیکن خواتین کے بارے میں ان کے نظریات ماضی کے مقابلے میں نرم ہے۔ خاتون صحافی ملالہ مومند کی حالیہ قتل اس حوالے سے تشویش پیدا
کرہا ہے کہ افغان امن معاہدے کی کامیابی کی صورت میں خواتین کی حقوق کا کتنا خیال رکھا جائے گا۔

Wednesday, December 9, 2020

معصومیت کا قتل.

 معصومیت کا قتل.


🙏🙏

         وہ لاہور شہر کے گلیوں میں بھیک مانگتا تھا کسی نے کچھ مدد کی  تو کسی نے دور دفعہ کیا لیکن اس کی معصومیت  اس بات کی تمیز نہیں کر پاتا  کہ اس کا اس دنیا میں کوئی نہیں توکیوں نہیں. اپنے ماں باپ کے لاڈ پیار سے  بچپن میں ہی محروم ہوچکا تھا.یہ غالباً 1890کا دورانیہ تھا جہاں حال ہی میں دوسری افغان اینگلو وار ختم ہوچکی تھی. روس اور برطانیہ کے درمیان "The great game" کی سیاسی جنگ چل رہی تھی.لاہور شہر کے میوزیم(   wonder house)کے سامنے کیھلتے ہوئے اس کی نظر ایک تبتی بڈھسٹ  پڑتی ہے. لاہور کا رہائشی محبوب علی جوکہ برطانوی حکومت کی خفیہ ادارے کے لیے کام کرتا تھا بچے کی معصومیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے  تبتی بزرگ کے ساتھ برطانوی حکومت کے لیے جاسوسی کی غرض سے امبالا شہر (ہندوستان) روانہ کرتا ہے اور یوں ایک معصوم بچہ انگریز حکومت  کے لیے 'دی گریٹ گیم" میں ایک جاسوس بن جاتا ہے.یہ کہانی مشہور نوبل ایوارڈ یافتہ روڈیارڈ کپلنگ کے مشہور زمانہ ناول "Kim"  کی ہے جو سن 1900 سے 1901 کے درمیان شائع کی گئی تھی.                                                      
 
               یقیناً بچوں میں اچھے اور برے کی تمیز نہ ہونے کی وجہ سے انہیں انسان دشمن عناصر کئی پر بھی استعمال کرسکتے ہیں.  بلوچستان کے درالحکومت کوئٹہ میں ایسے بے شمار یتیم اور لاچار بچے شہر میں عوامی مقامات پر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں. یہ معصوم کبھی اللہ کے نام پر تو کبھی ہاتھ میں قلم ،تسبیح وغیرہ لیکر بھیک مانگتے ہیں. ان بچوں کو مذہب کا نہ ہی اللہ کے نام پر مانگنے کا مقصد پتہ ہے. حال ہی میں سوشل ویلفئیر کی مدد سے ان بچوں کو ری ہیبلیٹیشن سینٹرز میں لے جانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی جس سے بچنے کے لیے ان بچوں کے آقاؤن کی جانب سے مختلف اشیاء بیچنے کے ذریعے  خیرات مانگنے کی شکل کو تبدیل کروائی گئی.                                                                                                                                             
                   جہاں دنیا ایک طرف چائلڈ لیبر کو روکنے کے بارے میں سنجیدہ ہے وہاں  بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے میں  مذکورہ مسئلے کو کسی ادارے نے سنجیدگی سے نہیں لیا ہے.اب تو پیشہ ورانہ گداگر آقاؤں نے ان بچوں کے ہاتھ میں کچھ قلم، ٹافیاں وغیرہ تھماکر ان کی گداگری  نیا گڑسیکھ لیا ہے لیکن ایسے معصوموں کا چیزیں بیچھنا بھی شاید ایک طرح سے چائلڈ لیبر کی طرف انہیں دھکیلنا ہے. پاکستان کے1973 آئین آرٹیکل 11(3) بیان کرتا ہے کہ کسی بھی بچے  جس کی عمر 14 سال سے کم ہو فیکٹری وغیرہ  کام کرنے کو  سختی سے منع کرتا ہے جبکہ آٹھارویں ترمیم میں عمر کی حد 14 سے بڑھا کر16 سال رکھی گئی ہے.                                                                                                                                   .
          اس ضمن میں سندھ کیبینٹ کی جانب سے ایک موثر اقدام لاگو کیا گیا تھا جس میں بچوں کی گدا گری کو ممنوع قرار دیا گیا جبکہ سوشل ویلفئیر ڈپارٹمنٹ کو ہدات جاری کی گئی تھی کہ ٹریفک چوراہوں پر بھیک مانگنے والے بچوں کو اپنے ساتھ ری ہیبلیٹیشن سینٹرز لے جانے کی ہدایت بھی شامل تھی. 
         بلوچستان حکومت نے اگرچہ گداگری اور چائلڈ سے متعلق کئی اقدامات اٹھائے ہیں لیکن قانونی طور پر ابھی گداگری کی لعنت کی روک تھام کے لیے کوئی موثر اقدام نظر نہیں آرہا.
                                                                                                                                                         
                     
گدا گری سے نہ صرف بچوں کا استحصال ہورہا ہے بلکہ یہ کئ جرائم کو بڑھاوا دے رہا ہے. صوبائی درالحکومت میں  پیشہ ورانہ گداگر بچوں کو استعمال کررہے ہیں. ایسی صورتحال میں جہاں ایک طرف معصوم بچوں کی معصومیت کا قتل ہورہا ہے وہی ان  کو غیر قانونی کاروائیوں جیسے منشیات فروشی اور دہشت گردی کے لیے ملک اور انسانیت دشمن عناصر  کی طرف سے باآسانی استمال کرنے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں.